Join the movement — MSL Pakistan JOIN US

مسلم سٹوڈنٹس لیگ ہی طلبہ کی امیدوں کا محور

مسلم سٹوڈنٹس لیگ طلبہ کی امیدوں کی محور انس محصی کے ایک شاندار دورِ صدارت کا اختتام، نئی قیادت کا آغاز   از قلم :معاویہ اعجاز    آج کے ہنگامہ خیز عہد میں مسلم معاشرہ ایک ایسی بےسمتی کا شکار ہے جس نے دل و نگاہ دونوں کو بے چین کر دیا ہے۔ لادینیت کی سر سرد ہوائیں، الحاد کی بے رنگ فضائیں، بےحیائی کی تیز لہر، مخلوط تعلیم نظام، فیشن کے نام پہ کفار کی نقالی، نشےکا فروغ، اور مغربی تہذیب کی اندھی شہرت نے قوم کے دل سے اپنی اصل کی خوشبو چھین لی ہے۔ وہ قومیں جو کبھی اسلام کی سربلندی کی علمبردار تھیں، آج اپنی پہچان کھوتی چلی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں سے ان کی فکری و نظریاتی سوچ کو چھین کر انہیں پروپیگنڈہ کا شکار کر دینا اور مایوسی کو اس قدر پھیلا دینا کہ جیسے اب کرنے کو کچھ نہیں بچا۔ پچھلے دو سالوں میں 16 لاکھ پڑھے لکھے نوجوانوں نے پاکستان سے باہر جانے کو ترجیح دی اور حالیہ 9 ماہ میں یہ تعداد بہت زیادہ حد تک بڑھ گئی ہے۔اسکی وجہ صرف مایوسی ہے اور اگر انہی لوگوں کو مثبت اور محنت کا راستہ دکھایا جاتا تو یہ افراد نہ صرف آگے بڑھتے بلکہ ملک و قوم کی ترقی کا سبب بنتے۔   ہر قوم کی طاقت اس کے افراد سے نمودار ہوتی ہے، اور افراد میں بھی سب سے روشن مینار نوجوان ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان تو وہ قافلہ ہیں جس کے قدموں میں مستقبل کے راستے بچھتے ہیں۔ انہی کے خواب زمانوں کا رخ بدلتے ہیں، اور انہی کی پرواز سے قوموں کی قسمت رقم ہوتی ہے۔ ان کے اندر ایک ایسی حرارتِ عمل پوشیدہ ہوتی ہے جو چھوٹی سے چھوٹی رکاوٹ کو بھی پہاڑ نہیں بننے دیتی۔   پاکستان پر قدرت کا خاص کرم ہے کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی نہایت مضبوط اور توانا ہے۔ اس سرزمین کو تیرہ کروڑ نوجوانوں کا قیمتی خزانہ عطا ہے، جن میں سے آٹھ کروڑ وہ ہیں جو تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ تعلیم وہ چراغ ہے جو پورے معاشرے کے قافلے کو روشنی بخشتی ہے۔ پڑھا لکھا معاشرہ ہمیشہ بلندیوں کی طرف سفر کرتا ہے اور مضبوط بنیادوں پر کھڑا رہتا ہے۔   ہمارے تعلیمی اداروں میں مختلف افکار و نظریات کی سوسائٹیز اور تنظیمیں سرگرم ہیں۔کہیں لسانیت کے نام پر گروہ بندی، کہیں علاقائی شناخت کے عنوان سے اجتماع، تو کہیں قومیت کے رنگ میں بکھرے حلقے تو کہیں طلباء تنظیموں کی لڑائیاں جھگڑے جو ہمیشہ کالجز یونیورسٹیز کا سردرد ہیں بہت نامور یونیورسٹیز تنظیموں کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے سال بھر میں اپنے تعلیمی کیریئر کی بندش کا شکار ہوتی ہیں۔اس میں قائد اعظم یونیورسٹی سالانہ ایک سے دو ماہ تنظیموں کی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے بند ہوتی ہے، اسلامک یونیورسٹی میں آئے روز ہمیں تنظیموں کی قتل وغارت بھی دکھائی دیتی ہے، پشاور یونیورسٹی آف پشاور بھی اس فتنے کا شکار ہے اس طرح پنجاب یونیورسٹی کو تو طلباء تنظیموں نے اپنا گڑھ بنا رکھا ہے جو نہ تو فیکلٹی اور نہ تعلیمی سرگرمیوں کا خیال رکھتے ہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے نام کی خاطر دنگا فساد اور اس کو خوشی سے بیان کرتے ہیں ہم ان تنظیموں کے خلاف نہیں بلکہ انکے کردار کی وجہ سے جو ہمارا چہرہ عمومی طور پر دکھائی دیتا ہے وہ پریشان کن ہے۔ اگر ہم اسی انوسمنٹ کو طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں ملک و قوم کی ترقی میں خرچ کریں تو نتیجہ اس کے برعکس ہوگا۔ ایسے میں طلبہ کے لیے امید کی کرن مسلم سٹوڈنٹس لیگ بھی ہے، جو نوجوانان ملت کی فکر و عمل سنوارنے کے لیے گلگت سے گوادر تک کشمیر سے کراچی تک چترال سے چمن تک کوشاں ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف درسگاہوں میں ان کے جوہر کو جلا بخشتی ہے بلکہ ان کے دلوں میں امت اور وطن کی خدمت کا وہ چراغ بھی روشن کرتی ہے جو کبھی بجھنے نہیں پاتا۔   یہ وہ طلباء ہیں جو کشمیر میں ملک دشمن نظریے کے حامی گروپوں کے مقابلے میں ایک مظبوط دیوار کی مانند ہیں۔ خیبرپختونخوا و بلوچستان میں دہشت گردی میں استعمال ہونے والے طلباء کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو سندھو دیش کی آواز کو دبانے میں کامیاب نظر آتے ہیں اور یکجا ایک قوم کی آواز بلند کرتے ہیں۔ جو نظریہ پاکستان کے محافظ ہیں، اور لاالہ الااللہ کے دیس میں ایک روشن و توانا آواز ہیں۔ یہ وہی مسلم سٹوڈنٹس لیگ ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے علی گڑھ کے طلباء میں تحریک پاکستان سے شروع کی جو پورے برصغیر کے مسلمانوں تک پہنچ کر کریہ کریہ نگر نگر یہ آواز بلند کی کہ ہندو اور مسلمان دونوں الگ الگ قومیں یہ کسی طور پہ یکجا نہیں رہ سکتے پھر انہی کی محنتوں کے سبب اللہ نے وطن عزیز جیسی نعمت عطا کی۔ کل پوری قوم کو ایک وطن کی ضرورت تھی اور آج وطن کو ایک قوم کی اور یہی کردار مسلم سٹوڈنٹس لیگ ادا کر رہی ہے ۔ ہر تحریک کا ایک خواب ہوتا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے ایسے افراد درکار ہوتے ہیں جو قوم کے کل کو روشن کرنے کے لیے اپنے آج کو قربان کردینے والے ہوں۔ تحریک کے ساتھ جڑے لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ تحریک کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا قطعاً آسان نہیں ہوتا۔ تحریک آپ کو بڑا مقصد دیتی ہے۔ اچھی تحریک (قرآن و حدیث کی رو سے) آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار دیتی ہے۔   مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نواجوان اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی وظائف حاصل کر کے اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ ہزاروں طلبہ کی کیریئر کونسلنگ کی گئی، لاکھوں نوجوانوں کو فرسٹ ایڈ کی عملی تربیت دی گئی تاکہ وہ کسی بھی حادثے میں فوری مدد کر سکیں۔   یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کے استعمال کے خلاف بھی یہ طلبہ قابلِ تعریف کردار ادا کر رہے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس ورکشاپس کے ذریعے نوجوان نسل کو اس تباہ کن لعنت سے بچانے کی کوشش کی