تعلیم القران

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾ یٰبَنِیَّ اذۡہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۷﴾ اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاواور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں سے شدتِ غم کی وجہ سے آنسو بہہ رہے ہیں لیکن زبان سے انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جس سے رب تعالیٰ ناراض ہو، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ میں کسی کے سامنے کوئی شکایت نہیں کرتا اور نہ ہی مجھے کسی سے کوئی توقع ہے، میں اپنی بے قراری، غم اور دل کی کیفیت اپنے رب کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ میرا تو سارا معاملہ ہی میرے اللہ کے ساتھ ہے۔’’ بَثِّیْ ‘‘ اور ’’حُزْنِیْۤ ‘‘ دونوں کا معنی غم ہی ہے لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ ’’ بَثٌّ‘‘ وہ غم ہے جو ظاہر ہو جائے، یعنی بے قراری اور بے چینی کی شکل میں انسان کو نیند نہ آئے اور اس کے چہرے پر غم کی شدت کا اثر واضح ہو اور’’ حُزْن‘‘ اس غم کو کہتے ہیں جو دل میں چھپا ہوا ہو، اندر ہی اندر بندے کو کھائے جا رہا ہو اور اس کی شدت بڑھتی جا رہی ہو۔ یعقوب علیہ السلام کہتے ہیں کہ میری یہ بے قراری اور میرا یہ غم جو کچھ بھی ہے میں اس کی شکایت اپنے اللہ کے سامنے کرتا ہوں۔ یعقوب علیہ السلام تقدیر پر بات نہیں کر رہے اور نہ ہی یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ اے اللہ! تو نے میرے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا؟ بلکہ اپنے دل کی کیفیت اپنے رب کے سامنے پیش کی ہے۔ حقیقت ہے کہ یہ چیز بہت بڑی دعوت ہے۔ نبیوں پر بھی غم آتے ہیں لیکن ان کا رویہ بہت صبر والا ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لختِ جگر ابراہیم فوت ہوئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوا ہے، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں اور شدتِ غم کی وجہ سے آپ کہہ رہے ہیں: ”بے شک آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے جو ہمارے رب کو پسند ہواور بے شک ہم تیری جدائی کی وجہ سے اے ابراہیم! یقیناً بہت غمزدہ ہیں۔ “ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جواب میں اس وقت کہی تھی جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ آپ بھی مصیبت کے وقت میں روتے ہیں؟ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ رب العالمین آنسو بہانے اور دل کی غمگینی پر عذاب نہیں دیتا بلکہ زبان کی شکایت پر عذاب دیتا ہے۔ نبی بھی انسان ہوتے ہیں اور ان کا غم میں مبتلا ہوجانا بھی فطری امر ہے۔ غم کی شدت زیادہ ہو تو کبھی آنکھیں بہنے لگتی ہیں اور بندہ بے قراری کا اظہار کر دیتا ہے۔ یعقوب علیہ السلام بھی اپنی اسی کیفیت کا اظہار کر رہے ہیں کہ اے اللہ! میں کمزور ہوں، مجھ پر غم کا اتنا اثر ہو گیا ہے کہ میری بے قراری دنیا دیکھنے لگ گئی ہے۔ میرے اضطراب کی کیفیت میرے بیٹوں نے بھی محسوس کی ہے۔ اے اللہ! میرے غم کو تو ہی جانتا ہے اور اس کی شکایت بھی تیرے ہی سامنے کر رہا ہوں، کیوں کہ تکلیف اور غم صرف تو نے ہی دور کرنے ہیں اس کے سوا غم ختم ہونے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب کبھی کوئی بہت زیادہ شدت کا معاملہ ہو تو اپنی کمزوری اور کوتاہی بیان کر کے اللہ رب العالمین سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ ایک صحیح عقیدہ رکھنے والا شخص کبھی اپنے رب کے سامنے یہ شکوہ نہیں کرتا کہ یا اللہ! تو نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ اس کی زبان پرکبھی ایسے بے صبری والے الفاظ آتے ہی نہیں ہے۔ اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ’’ یعقوب علیہ السلام کی طرف سے ‘‘ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ’’ کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں غیب جانتا ہوں بلکہ ان کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر مجھے معلوم ہے، ایک وقت آئے گا جب یوسف مجھ سے مل کر رہے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے جو خواب اپنے باپ کے سامنے بیان کیا تھا وہ ان کے ذہن میں موجود تھا اور اسی وجہ سے انھیں امید رہتی تھی کہ یوسف کبھی نہ کبھی ہمیں ضرور ملیں گے اور ان کا خواب بھی پورا ہو گا۔ یعقوب علیہ السلام چھوٹے بیٹے کی خبر سن کر شدتِ غم سے نڈھال ہوئے تو یوسف علیہ السلام کا خواب یاد کر کے بیٹوں سے کہنے لگے کہ تم جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ پیچھے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ بھائیوں نے جب باپ کے سامنے یوسف کو بھیڑیے کے کھا جانے کی بات کی تو انھوں نے کہا تھا کہ یہ تمہارے نفسوں نے اپنی طرف سے کہانی گھڑی ہے۔ میں اس بات کو نہیں مانتا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ یعقوب علیہ السلام سمجھتے تھے کہ یوسف زندہ ہے، اسی لیے اب وہ اپنے بیٹوں سے یوسف کو تلاش کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ یہاں ایک بات سمجھ لیں کہ ایک ہوتا ہے ‘‘تحسس’’ اور ایک ہوتا ہے ‘‘تجسس’’، دونوں کا مطلب تلاش کرنا ہے